Allama Iqbal Sufi Poetry In Urdu – Iqbal on Sufism

Bachashme Man Jahan Juz Rahguzar Naist

بچشم من جہاں جز رہگزر نیست
ہزاراں رہرو و یک ہم سفر نیست
گذشتم از ہجوم خویش و پیوند
کہ از خویشاں کسے بیگانہ تر نیست

میری نظر میں دنیا ایک راستہ کے سوا کچھ نہیں
یہاں ہزاروں مسافر ہیں مگر ایک بھی ہم سفر نہیں ہے
میں عزیزوں اور دوستوں کے ہجوم سے گزر گیا
کیونکہ اپنوں سے بڑھ کر کوئی بیگانہ نہیں ہے

Allama Iqbal

Har Ke PaimaaN Ba HoWal MoJod Bast
Gardanash Az Band e Har Mabood Rast

ہر کہ پیماں با ھوالموجود بست
گردنش از بند ہر معبود رَست

جس کسی نے بھی رب حضور کو ہر جگہ موجود جاننے ماننے کا عہد کیا
اُس کی گردن ہر باطل معبود کی زنجیر سے نجات پا گئی

مومن از عشق است و عشق از مومن است
عشق را ناممکن ما ممکن است

مومن عشق سے بنتا ہے اور عشق مومن کی بدولت ہے
عشق کی وجہ سے ہمارے لئے ناممکن بھی ممکن ہو گیا

عقل سفاک است و اُو سفاک تر
پاک تر ، چالاک تر ، بیباک تر

عقل سفاک ہے اور عشق اس سے زیادہ سفاک ہے
کیونکہ عشق پاک ہے ،چالاک ہے اور نڈر ہے

عقل درپیچاک اسباب و علل
عشق چوگاں باز میدان عمل

عقل دلائل و اسباب میں پھنسی رہتی ہے
جبکہ عشق میدان عمل میں چوگان(پولو) کا کھیل کھیلتا ہے

عشق صید از زور بازو افگند
عقل مکار است و دامے می زند

عشق اپنے زور بازو سے شکار کھیلتا ہے
جبکہ عقل عیاری سے شکار کرتی ہے

عقل را سرمایہ از بیم و شک است
عشق را عزم و یقیں لاینفک است

عقل کی ساری جمع پونجی وہم و شک ہے
عشق کے ارادے اٹل اور وہم و شک سے پاک ہوتے ہیں

آں کند تعمیر تا ویراں کند
ایں کند ویراں کہ آباداں کند

عقل تعمیر کرتی ہے تا کہ وہران کر دے
عشق پہلے ویران کرتا ہے تا کہ آباد ہو

عقل چوں باد است ارزاں در جہاں
عشق کمیاب و بہائے او گراں

عقل ہوا کی طرح اس جہان میں سستی چیز ہے
عشق ایک بیش قیمت چیز ہے جو نایاب ہے

عقل محکم از اساس چون و چند
عشق عریاں از لباسِ چون و چند

عقل پختہ ہوتی ہے حجت اور منطق سے
جبکہ عشق اس لباس کو اتار پھنیکتا ہے

عقل می گوید کہ خودراپیش کن
عشق گوید امتحان خویش کن

عقل کہتی ہے کہ خود کو پیش کر ہتھیار ڈال دے
عشق کہتا ہے کہ اپنی خودی کا امتحان کر

عقل با غیر آشنا از اکتساب
عشق از فضل است و باخود درحساب

عقل اپنا حساب کروانے کے لئے غیروں سے آشنائی اختیار کرتی ہے
جبکہ عشق خدا کے فضل سے اپنا حساب خود کر لیتا ہے

عقل گوید شاد شو آباد شو
عشق گوید بندہ شو آزاد شو

عقل کہتی ہے کہ خوش رہو آباد رہو
عشق کہتا ہے کہ رب کا بندہ بن جا اور آزاد ہو جا

عشق را آرام جاں حریت است
ناقہ اش را سارباں حریت است

حریت عشق کی جان کی راحت ہے
اس کی سواری(اُونٹنی) کی سارباں بھی حریت ہے

آں شنیدستی کہ ہنگام نبرد
عشق با عقل ہوس پرور چہ کرد

کیا تو نے کربلا کے واقعہ کے بارے میں سنا ہے
عشق نے ہوس پرور عقل کے ساتھ کیا کیا

آں امام عاشقاں پور بتول
سروِ آزادے ز بستان رسولؐ

حسین جو کہ عشاق کے امام اور حضرت بی بی فاطمہ کے بیٹے ہیں
گلشن رسالت کے آزاد سرو (جو باطل کے آگے نہیں جھکا) ہیں

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر

اللہ اللہ والد بسم اللہ کی ب کی مثل ہیں
اور بیٹا حسین ذبح عظیم کی صورت میں آیا

بہر آں شہزادہ خیرالملل
دوش حتم المرسلیں نعم الجمل

تمام اُمتوں سے بہترین اُمت کے شہزادے کے لئے
خاتم الانبیا کے کندھے بہترین اُونٹ کی مانند تھے
اشارہ ہے حدیث شریف کی طرف کیا ہی اچھی سواری اور کیا ہی اچھا سوار

سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی ایں مصرع از مضمون او

عشق کو غیرت اور سرخی آپ کے خون سے ملی
اس مصرع کی شوخی آپ کے مضمون کی وجہ سے ہی ہے

درمیان اُمت آں کیواں جناب
ہمچو حرف قل ھواللہ در کتاب

اس بہترین اُمت کے درمیان آپ کا مقام
ایسے ہی ہے جیسے کہ قرآن میں قل ھواللہ

موسی و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید

موسی اور فرعون ، شبیر اور یزید
یہ دونوں حق و باطل کی قوتیں زندگی کے ساتھ ساتھ ہیں

زندہ حق از قوتِ شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

حق قوت شبیری کی وجہ سے زندہ ہے
باطل نے آخر کار حسرت کی موت مرنا ہے

چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت
حریت را زہر اندر کام ریخت

خلافت نے جب قرآن سے تعلق توڑ دیا
تو حریت آزادی کے حلق میں زہر اُنڈیل دیا

خاست آں سر جلوہ خیرالامم
چوں سحاب قبلہ باراں در قدم

اُس خیرالامم کا جلوہ ایسے اُبھرا
جیسے کعبہ سے بارش سے بھرا ہوا بادل اُٹھتا ہے

بر زمین کربلا بارید و رفت
لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت

وہ کربلا کی زمین پر برسا اور چلا گیا
ویرانی میں لالہ کے پھول اُگائے اور چلا گیا

تا قیامت قطعِ استبداد کرد
موج خونِ او چمن ایجاد کرد

قیامت تک کے لئے شخصی حکومت کا خاتمہ کر دیا
اُن کے خون کی موجوں نے ایک نیا باغ تعمیرکردیا

ہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
پس بنائے لا الہ گردیدہ است

حق کے لئے انہوں نے اپنا خون خاک میں ملایا
اس طرح سے انہوں نے لا الہ کی بنیاد ڈالی

مدعائش سلطنت بودے اگر
خود نکردے با چنیں سامان سفر

اُن کا مقصد اگر سلطنت ہوتی
تو اتنے کم سامان سفر کے ساتھ نہ جاتے

دشمناں چوں ریگ صحرا لا تعد
دوستانِ او بہ یزداں ہم عدد

اُن کے دشمنوں کی تعداد صحرا کے ذروں کے مانند ان گنت تھی
جب کہ دوستوں کی تعداد یزداں اللہ کا ایک نام کے عدد کے برابر بہتر تھی
10+7+4+1+50=72

سر ابراہیم و اسماعیل بود
یعنی آں اجمال را تفصیل بود

آپ اصل میں حضرت ابراہیم و اسمیعل کی قربانی کا راز تھے
یعنی وہ اجمال تھے اور آپ ان کی تفصیل و تفسیر ہوئے

عزم او چوں کوہساراں استوار
پایدار و تند سیر و کامگار

آپ کا عزم پہاڑ کی مانند اٹل تھا
مضبوط و تیز اور مقصد کو حاصل کرنے والا تھا

تیغ بہر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس

آپ کی تلوار دین کے عزت و ناموس کے لئے تھی
آپ کی نیت دین اسلام کی حفاظت تھی

ما سواللہ را مسلماں بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست

مسلمان خدا کے سوا کسی باطل قوت کا غلام نہیں بنتا
وہ فرعونی قوتوں کے آگے سر نگوں نہیں ہوتا

خونِ او تفسیر ایں اسرار کرد
ملتِ خوابیدہ را بیدار کرد

آپ کے خون نے کئی رازوں کی تفسیریں بیاں کیں
اور سوئی ہوئی اُمت بیدار کو عملا بیدار کر دیا

تیغ لا چوں میاں بیرون کشید
از رگِ ارباب باطل خوں کشید

جب آپ نے لا کی تلوار کو باہر نکالا
تو باطل قوتوں کی رگوں سے خون کھینچ لیا

نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطرِ عنوان نجات ما نوشت

ہر قطرے سے صحرا پر الا للہ کا نقش لکھ دیا
اور اُمت کی نجات کا مضمون لکھ دیا

رمز قرآں از حسین آموختیم
ز آتشِ اُو شعلہ ہا اندوختیم

قرآن کی رمزیں ہم نے حسین سے سیکھی ہیں
اور آپ کی آگ سے ہم نے کئی شعلے (تعلیم )حاصل کئے ہیں

شوکت شام و فر بغداد رفت
سطوتِ غرناطہ ہم ازیاد رفت

شام و بغداد کی شوکتیں چلی گئیں
غرناطہ کی دھوم دھام بھی ہماری یاد سے محو ہو گئی

تار ما از خمہ ہائش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیر او ایماں ہنوز

لیکن ہمارا ساز ابھی بھی آپ کی بدولت بج رہا ہے
آپ کی تکبیر کی گونج ہمارے ایمان کو لمحہ بہ لمحہ تازہ کر رہی ہے

اے صبا اے پیک دور افتادگاں
اشک ما بر خاک پاک او رسان

اے ہوا اے دور رہنے والوں کی پیغام رساں
ہمارے آنسو(سلام و عقیدت) آپ کے مزار مبارک کی خاک پر پہنچا دے

Allama Iqbal

Jahan Az Ishq o Ishq Az Seena Tust

جہان از عشق و عشق از سینہ تست
سرورش از مے دیرینہ تست
جز ایں چیزے نمی دانم ز جبریل
کہ او یک جوہر از آینہ تست

یہ دنیا عشق کی بدولت ہے اور عشق آپؐ کے سینہ(دل) مبارک سے ہے
عشق کا سرور آپؐ کی پرانی شراب (توحید و معرفت)کے طفیل ہے
میں جبریل کے بارے میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ وہ
آپؐ کہ آئینہ کی ایک چمک ہے
یعنی جبریل بھی حضورؐ کے نور کے طفیل معرض وجود میں آئے

Allama Iqbal

Ae Ke Bashi Dar Pe Kasb e Uloom
Ba Tu me Goium Payam Pir e Room

علامہ اقبال نے خوبصورت اشعار کی صورت میں حضرت مولانا روم کا مشہور واقعہ قلمبند کیا ہے
جس کے بعد آپ نے درس و تدریس کو چھوڑ کر حضرت شمس تبریزی کی صحبت اختیار کر لی

اے کہ باشی در پے کسب علوم
با تو می گویم پیام پیر روم

اےکہ تو علم حاصل کرنے میں مصروف ہے
کیا تو نے پیر روم کا پیغام بھی سنا ہے

“علم را بر تن زنی مارے بود
علم را بر دل زنی یارے بود”

مولانا روم کہتے ہیں کہ
علم کو اگر بدن پر لگایا جائے تو یہ سانپ بن جاتا ہے
لیکن علم کو اگر دل سے جوڑا جائے تو یہ یار بن جاتا ہے

آگہی از قصہ اخوند روم
آں کہ داد اندر حلب درس علوم

تو مولاناروم کے قصے سے تو واقف ہے
وہ جو روم کہ شہر حلب مین علوم کا درس دیا کرتے تھے

پائے در زنجیر توجیہات عقل
کشتیش طوفانی طلمات عقل

اُن کے پاؤں عقل کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے
اُن کی کشتی عقل کی تاریکیوں اور طوفانوں میں گھری ہوئی تھی

موسی ے بیگانہ سینائے عشق
بے خبر از عشق او از سودائے عشق

وہ ایسے موسی تھے جو عشق کے طور سے نا واقف تھا
عشق اور عشق کے طور اطوار سے بے خبر تھے

از تشکک گفت و از اشراق گفت
وز حکم صد گوہر تابندہ سفت

وہ تشکک اور اشراق جیسے فلسفہ کے موضوعات پر گفتگو فرماتے
علوم کے موتی پروتے اور اس کے حصول پر زور دیتے تھے

عقدہائے قول مشائیں کشود
نور فکرش ہر خفی را وا نمود

اُنہوں نے بہت سے پیچیدہ مسائل کی گھتیاں سلجھائیں
اپنے نور فکر سے علم کا حصول ہر خاص و عام پر آسان کر دیا

گرد و پیشش بود انبار کتب
بر لب او شرح اسرار کتب

اُن کے گرد ہر وقت کتابوں کا ڈھیر ہوتا
ان کے ہونٹوں پر ہر وقت کتابوں کی تشریحات ہوتیں تھیں

پیر تبریزی ز ارشاد کمال
جست راہ مکتب مُلا جلال

حضرت شمس تبریزی اپنے مرشد کے حکم پر
مولاناجلال الدین رومی کے مدرسے پر آئے

گفت “ایں غوغا و قیل و قال چیست
ایں قیاس و وہم و استدلال چیست؟”

کہا کہ یہ شورو شرابہ اور غل غپاڑہ کیا ہے؟
یہ وہم و قیاس ،شک شبہ ،سمجھنا کیا ہے؟

مولوی فرمود “ناداں لب بہ بند
بر ملاقات خرد منداں مخند

مولانا روم نے کہا کہ مولوی چپ ہو جا
تو عقل مندوں کی باتوں کا مذاق نہ اُڑا

پائے خویش از مکتبم بیروں گذار
قیل و قال است ایں ترا باوے چہ کار؟

تو اُلٹے پاؤں میرے مدرسے سے نکل جا
میر ے قول و فعل سے تیرا کوئی لینا دینا نہیں

قال ما از فہم تو بالا تر است
شیشہ ادراک را روشن گر است”
میری باتیں تیری عقل سے اونچی ہیں
یہ عقل کے شیشے کو روشن کرتیں ہیں

سوز شمس از گفتہ ملا فزود
آتشے از جان تبریزی کشود
شمس تبریزی کے سوز کی گرمی مولانا کی باتوں سے بڑھ گئی
ان کی جان میں چھپی آگ ظاہر ہو گئ

بر زمیں برق نگاہ او فتاد
خاک از سوز دم او شعلہ زاد

اُنہوں نے جلال سے بھری آنکھ زمیں پہ ڈالی
ان کے پھونک سے مٹی شعلہ بن گئی

آتش دل خرمن ادراک سوخت
دفتر آں فلسفی را پاک سوخت

دل کی آگ نے عقل و فہم و ادراک کا کھلیان جلا دیا
اس فلسفی کا دفتر جل کر راکھ ہو گیا

مولوی بیگانہ از اعجاز عشق
ناشناس نغمہائے ساز عشق

مولانا روم جو کہ اُس وقت تک عشق کی کرامتوں سے نا واقف تھے
اور عشق کے نغموں اور رازوں سے بھی بے خبر تھے

گفت: “ایں آتش چساں افروختی
دفتر ارباب حکمت سوختی”

بولے کہ تو نے یہ آگ کیسے جلا لی
تو نے ارباب علم و حکمت کا نایاب خزانہ جلا ڈالہ

گفت شیخ اے مسلم زنار دار
ذوق و حال است ایں ترا باوے چہ کار

شمس تبریز بولے کہ اے بظاہر مسلم مگر عملا انکاری
یہ ذوق و شوق اور عشق کی گرمی کہ باعث ہے لیکن تیرا اس سے کوئی کام نہیں

حال ما از فکر تو بالا تر است
شعلہ ما کیمائے احمر است

میرا حال تیری سمجھ سے بالا تر ہے
میرا شعلہ پارس پتھر سونا ہے

Allama Iqbal

About admin

Check Also

23rd March Pakistan Day Best Shayari in urdu

Pakistan Day (Urdu: یوم پاکستان‎, lit. Yaum-e-Pakistan) or Pakistan Resolution Day, also Republic Day, is a national holiday in Pakistan commemorating the Lahore Resolution …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *